Sad poetry in Urdu text expresses deep sorrow, heartbreak, loneliness, and the silent pain hidden inside the human heart. It reflects emotions that are difficult to say out loud but easy to feel. Poets like Mirza Ghalib and Faiz Ahmed Faiz beautifully portrayed sadness as a part of love and life, showing how pain can shape a person’s soul and thinking.
Many Urdu poets have used simple yet powerful words to describe broken dreams, lost love, and emotional struggles. The influence of poets such as Jaun Elia can be seen in poetry that speaks of inner conflict, loneliness, and disappointment with the world. Their verses often feel personal, as if they are written straight from the heart of someone who has suffered deeply.
Overall, sad poetry in Urdu text turns tears into meaningful expression. Like the spiritual depth found in the words of Rumi, this poetry reminds us that pain is also a path to understanding ourselves better. Through emotional and honest words, sad Urdu poetry comforts wounded hearts and helps people feel less alone in their sorrow. Alone Sad Poetry in Urdu Text | Sad Poetry in Urdu Text 2 Lines | Deep Sad Poetry in Urdu Text | Sad Poetry in Urdu Text Copy Paste
Sad Poetry in Urdu Text

مجھے ڈھونڈنے کی کوشش اب نہ کیا کر
تو نے راستہ بدلا تو میں نے منزل بدل لی

اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بےحس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

مجھ سے بچھڑ کے تُو بھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

تم کیا جانو اپنے آپ سے کتنا میں شرمندہ ہوں
چھوٹ گیا ہے ساتھ تمہارا اور ابھی تک زندہ ہوں

را ت آ کر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی

اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے
اور میں سوچتا رہ گیا

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر’
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کُچھ سُنا دینا
زُباں سے کُچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اُچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

کیسے ایک لفظ میں بیان کروں
دِل کو کِس بات نے اُداس کِیا

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اُداس رہتا ہے

ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصل
اداسیوں کی کوئی شَہریت نہیں ہوتی

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

بادلوں کا بھی میرے جیسا حال ہے
بتاتے کچھ بھی نہیں بس روۓ جا رہے ہی

کسی سے دل کو کوئی امید مت رکھ
یہاں ہوتا نہیں کوئی کسی کا

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں


















