سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دنیا کی نظر میں یہ کوئی الزام تو نہیں

محبت میں عجب اک خوف سا ہوتا ہے مر جانے کا
کوئی رہتا نہیں دل میں مگر دل خالی بھی نہیں رہتا

یہ کیا کہ اک زخم بھی نہ کھایا
عشق میں تیرے جئے تو کیا جئے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو

میں نے جس لمحے تجھے چاہا تھا
وہ لمحہ آج بھی دل میں زندہ ہے

میں پل دو پل کا شاعر ہوں، پل دو پل میری کہانی ہے
پل دو پل میری ہستی ہے، پل دو پل میری جوانی ہے

بچھڑ کے تجھ سے مجھے چین آ گیا لیکن
یہ کیا کہ دل کو قرار آ گیا مگر کم ہے

اپنے ہوتے اگر اپنے ہوتے
کون روتا پرائے دردوں میں

کیا کہیں کس سے کہیں کیوں کہیں
زندگی ایک راز ہے جانے دو

شوق ہر رنگ میں رقیب ستم نکلا ہے
میری سادگی دیکھ کیا چاہا اور کیا نکلا ہے

وصل کی رات یہ کہہ کے وہ چل دی ظفر
اب کبھی خواب میں بھی نہ بلانا مجھے

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

میرے لبوں پہ مہر تھی پر دل میں وہم تھا
ہم نے کہا نہ تھا، کہ یہ عشق کم نہ تھا

ہم بھی کب تک تجھے دیکھیں گے پرانی آنکھوں سے
یاد بھی تازہ کریں گے کوئی تازہ آنکھوں سے

یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
لوگ ہمیں ہم لوگ کو دنیا چھوڑ چلی ہے

عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں، کس قدر ہم سنوارے گئے
آئینہ جب بھی دیکھا کیا، اپنا چہرہ اجنبی سا لگا

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

میں نے چاہا تجھے محبوب بنا کر لیکن
تو تو تصویر کا اک رنگ بدلتا ہوا لمحہ نکلا

ہمیں معلوم ہے منزل مگر چھوڑیں کہاں تجھ کو
کہ اب تو منزلوں کا بھی پتہ تم سے ملا ہے

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

کسی اور کو اب کیا چاہیں ہم
جب تجھی پہ تمام ہو بیٹھے

محبت میں اگرچہ دوریاں بھی ہیں
مگر پھر بھی قریب ہی لگتا ہے

تم جو پوچھو اپنی اہمیت مجھ سے تو سنو
اک تم کو جو چرالوں تو زمانہ غریب ہو جائے۔
















[…] Heart Touching Love Poetry in Urdu […]
[…] Heart Touching Love Poetry in Urdu […]
[…] Heart Touching Love Poetry in Urdu […]
[…] Heart Touching Love Poetry in Urdu […]